بیرِ کوہسار
NCERT Class 6 Urdu Chapter 11: بیرِ کوہسار (Pages 76–85)
Listen to this article
Summary of بیرِ کوہسار
بیرِ کوہسار at a Glance
CBSE
Class 6
Urdu
Khayal
11
76–85
6 study resources
بیرِ کوہسار Summary
اس باب میں ایک کنجوس ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک کا ذکر ہے جو خود کو بہت ہوشیار سمجھتا ہے۔ اس کا نام مفت مل ہے، اور وہ دوسروں خاص طور پر اپنے نوکروں سے مفت کام لینے میں ماہر ہے۔ مفت مل کی یہ چالاکی اس کی سب سے بڑی خصوصیت بن گئی ہے، اور اس کی کمپنی میں نوکری کرنے والے لوگ اچھی تنخواہوں کی امید میں آتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایک زور دار شرط ہوتی ہے کہ انہیں جو چیز بھی بازار سے لانے کے لیے کہا جائے، وہ لانا ہوگی۔ اگر نوکر نے یہ کام نہیں کیا تو نہ تو تنخواہ ملے گی اور نہ ہی نوکری رہے گی۔ نوکر اس شرط کو ہنسی خوشی قبول کر لیتے ہیں، کیونکہ وہ اچھی تنخواہ کی امید رکھتے ہیں۔ ایک دن ایک نوکر نے فیصلہ کیا کہ وہ مفت مل کے ساتھ کام جاری رکھے گا، سوچتے سوچتے کہ وہ دو سو روپے کمائے گا، جن میں سے وہ اپنی ماں کو سو روپے بھیجے گا اور باقی صرف اپنے لیے کپڑے بنوانے پر خرچ کرے گا۔ پچھلے دن نوکر اپنے کام پر خوش خوش پہنچتا ہے، مگر مفت مل کی طرف سے اسے ہدایت ملتی ہے کہ وہ بازار جا کر ایک چیز لائے، جس کا نام ہے 'ہائے ہائے'۔ نوکر پہلے تو یہ سمجھ نہیں پاتا کہ 'ہائے ہائے' کون سی چیز ہے، لیکن بعد میں جب وہ بازار جا کر دکاندار سے پوچھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ 'ہائے ہائے' ایک دھوکہ ہے۔ اس بات کو جان کر نوکر نے سوچا کہ اس کا مفت مل کے ساتھ کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر وہ ایک بوتل لے کر مفت مل کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ مفت مل ہنسا کہ یہ کیا ہے۔ نوکر نے جواب دیا کہ اسے یہ چیز مشکل سے ملی۔ مفت مل نے پھر نوکر کے ہنر مندی کا مذاق اڑایا اور اس کی چالاکی کو سراہتے ہوئے ہنسا۔ یہ کہانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ چالاکی اور دھوکہ دینا کبھی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ بلکہ امانت داری اور محنت ہی اصل کامیابی کی کنجی ہیں۔ نا انصافی کا یہ رویہ آخر کار انسان کو بے وقوف بناتا ہے اور اس کی خود کو چالاک سمجھنے کی ذہنیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اس طرح کی کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ ایماندار اور محنتی بننا چاہیے۔
