Brand Logo
Login
Search
Brand Logo

Edzy for Classes 6-12

Edzy is a personal AI tutor for CBSE and State Board students, with curriculum-aligned guidance, practice, revision, and study plans that adapt to each learner.

  • Email: always@edzy.ai
  • Phone: +91 96256 68472
  • WhatsApp: +91 96256 68472
  • Address: Sector 63, Gurgaon, Haryana

Follow Edzy

Browse by Class

  • CBSE Class 6
  • CBSE Class 7
  • CBSE Class 8
  • CBSE Class 9
  • CBSE Class 10
  • CBSE Class 11
  • CBSE Class 12
Explore the CBSE resource hub

Explore Edzy

  • Study Resources
  • Free Study Tools
  • Best Apps for Board Exams
  • Edzy vs ChatGPT
  • About Us
  • Why We Built Edzy
  • Blog
  • CBSE AI Tutor

Support & Legal

  • Help & FAQs
  • Accessibility
  • Privacy Policy
  • Terms & Conditions
  • Refund Policy
  • Cookie Policy
  • Site Directory

© 2026 Edzy. All rights reserved.

Curriculum-aligned learning paths for students in Classes 6-12.

Chapter Hub

ترانۂ حمدت

نظم 'ترانۂ حمدت' میں خدا کی موجودگی اور قدرت کے جلووں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ شاعری خوشبو اور رنگوں کے ساتھ ہمیں حیات کی اہمیت بتاتی ہے۔

Summary, practice, and revision
CBSE
Class 7
Urdu
Khayal

ترانۂ حمدت

Author: تلوک چند

Download NCERT Chapter PDF for ترانۂ حمدت – Latest Edition

Access Free NCERT PDFs & Study Material on Edzy – Official, Anytime, Anywhere

Live Challenge Mode

Ready to Duel?

Challenge friends on the same chapter, answer fast, and sharpen your concepts in a focused 1v1 battle.

NCERT-aligned questions
Perfect for friends and classmates

Why start now

Quick, competitive practice with instant momentum and zero setup.

More about chapter "ترانۂ حمدت"

چرچوں میں، 'ترانۂ حمدت' ایک منفرد نظم ہے جو قدرت کی عظمت اور خدا کی واحدیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر تلوک چند نے نظم میں مختلف قدرتی مناظر کی خوبصورتی اور ان میں اللہ کی موجودگی کو بیان کیا ہے۔ نظم کے پہلے حصے میں، خدا کا نور ہر ذرے میں موجود دکھائی دیتا ہے، جبکہ قدرت کے جلوے ہر سمت نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف، شاعر زندگی کی کشمکش پر غور کرتے ہوئے سوالات اٹھاتے ہیں۔ شاعر کی خوبصورت تشبیہات اور استعارے پڑھنے والے کو ان کی فکر میں کھینچ لیتے ہیں۔ نظم کا مقصد انسان کو قدرت کے رغبت میں بیدار کرنا اور اللہ کی محبت کی طلب ہے۔ یہ نظم اردو شاعری میں ایک خاص مقام رکھتی ہے اور قارئین کو دنیا کی خوبصورتی کو خدا کی نظر سے دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
Learn Better On The App
Competitive revision

Challenge Your Friends

Compete in short duels with fast rounds, instant feedback, and zero boredom.

1v1 challenges
Fast recall training

Faster access to practice, revision, and daily study flow.

Edzy mobile app preview

Class 7 - ترانۂ حمدت | Khayal Urdu Chapter

Explore the chapter 'ترانۂ حمدت' from Khayal Urdu for Class 7, highlighting its themes of unity, divine presence, and the beauty of nature.

نظم 'ترانۂ حمدت' میں مرکزی خیال اللہ کی واحدیت اور قدرت کے جلووں کا بیان ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ خدا کی روشنی اور موجودگی ہر ذرے میں ہے۔ یہ نظم قدرتی مناظر میں خدا کی عظمت کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کو اس کی محبت کا طلب گار بناتی ہے۔
'وحدت' کا مطلب ایک ہونا یا اکیلا ہونا ہے۔ یہ نظم میں اللہ کی واحدیت کو واضح کرتی ہے، جہاں شاعر بیان کرتا ہے کہ خدا کی موجودگی ہر جگہ ہے اور ہر چیز میں اس کی عکاسی ہوتی ہے۔
نظم میں رنگ و بو کا ذکر قدرت کی خوبصورتی اور اس کی زندگی بخش خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر نے رنگ و بو کے ذریعے زندگی کی مسرت اور خدا کی خالقیت کو نمایاں کیا ہے، جو ارد گرد کی دنیا میں ہر جگہ محسوس ہوتی ہیں۔
شاعر نے 'کشیدگیٔ مشکلات' کا ذکر انسان کی زندگی میں آنے والی مشکلات اور چیلنجز کی عکاسی کے لیے کیا ہے۔ اس کے ذریعے وہ رہنمائی کرتے ہیں کہ ان مشکلات کے درمیان بھی خدا کی محبت اور امید کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔
نظم میں تشبیہات جیسے 'نور، ید و قمر' اور 'درخت میں خوشبو' کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تشبیہات قدرت کی خوبصورتی اور خدا کی مہک کو بیان کرتی ہیں، جس کے ذریعے شاعر نے باریکیوں میں جوش و خروش پیش کیا ہے۔
نظم کا فلسفہ یہ ہے کہ خدا کی محبت اور موجودگی ہر چیز میں محسوس ہوتی ہے۔ شاعر زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ذریعے قدرت کی خوبصورتی اور خدا کی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں، اور انسان کو ان حقائق کا شعور دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
'خالق' کا مطلب ہے وہ ہستی جو ہر چیز کو تخلیق کرتی ہے۔ نظم میں یہ لفظ خدا کی تخلیق کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے، جہاں شاعر خدا کی عظمت اور قدرت کے بارے میں سوچتا ہے کہ وہ ہر ایک چیز میں موجود ہے۔
نظم کا اختتام انسان کی خواہشات اور خدا کی جستجو پر ہوتا ہے، جہاں شاعر روح کو ان مشکلات اور چیلنجز کے درمیان امید کی روشنی کی طرف گامزن کرتا ہے، یعنی خدا کی محبت کا طلب گار بننا۔
'جلوہ فگن' کا مطلب ہے جس کا دکھائی دینا یا جس کا مظاہرہ ہونا۔ یہ لفظ نظم میں خدا کی موجودگی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں شاعر یہ بیان کرتا ہے کہ خدا کی جلوہ گری ہر دنیاوی شے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
جی ہاں، 'ترانۂ حمدت' میں بنیادی طور پر یہ پیغام ہے کہ انسان کو خدا کی محبت اور موجودگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ نظم میں اللہ کی شکر گزاری اور قدرت کے جمال کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے ذریعہ انسان کو روحانی سکون ملتا ہے۔
نظم 'ترانۂ حمدت' اردو کے معروف شاعر تلوک چند کی تخلیق ہے، جو اپنی شاعری میں قدرت کی عکاسی اور خدا کی محبت کو پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
نظم میں موجود قدرتی مناظر میں درخت، جامنی پھول، روشنی اور رنگوں کی خوبصورتی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شاعر ان مناظر کے ذریعے خدا کی تخلیق کی عظمت کی عکاسی کرتا ہے، اور ان میں زندگی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
'محروم' کا ذکر شاعر کی جانب سے اس شخص کی حالت کو بیان کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو خدا کی رحمت سے محروم ہو چکا ہے۔ یہ الفاظ اس شخص کی حالت کی عکاسی کرتے ہیں، جسے امید اور طلب کی تلاش ہے۔
یہ نظم کسی مخصوص موقع کے لیے محدد نہیں کی گئی ہے۔ یہ خدا کی محبت اور قدرتی مناظر کا عمومی بیان ہے، جس کی خوبصورتی ہمیشہ اور ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے۔
نظم میں مختلف کمنٹری جیسے زندگی کی مشکلات، قدرتی مناظر، اللہ کی کی عظمت اور انسانی روح کی طلب کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ کمنٹری شاعر کی تفکر کا نتیجہ ہیں جو زندگی کے چیلنجز اور ان میں خدا کی محبت کو پیش کرتی ہیں۔
مصرع اور سبت کو جوڑنے کی ضرورت یہ ہے کہ نظم کے وزن اور قافیہ کو درست انداز میں ملایا جائے۔ شاعر نے نظم میں مصرعوں کی ترتیب کو خوبصورت طریقے سے قائم رکھا ہے، جو اس کی معنیٰ اور تشبیہوں کو تقویت دیتی ہے۔
نظم میں پیش کردہ سوالات دراصل انسانی وجود کے بنیادی سوالات ہیں، جن کا مقصد قاری کو غور و فکر میں مشغول کرنا ہے۔ یہ سوالات ہمیں زندگی کی مشکلات اور ان میں خدا کی موجودگی کو سمجھنے پر ابھارتے ہیں۔
'خوشبو' کا مطلب ہے وہ خوشبو جو قدرت کے حسن کو عکاسی کرتی ہے۔ نظم میں شاعر نے زندگی کی خوشبو کو خدا کی محبت اور اس کی تخلیق کی خوبصورتی کے ساتھ جوڑا ہے، جو قاری کو ایک روحانی احساس دلاتی ہے۔
شاعر نے اللہ کے نور کو پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ خدا ہی سب کچھ کی بنیاد ہے۔ اس نور کے ذریعے دنیا کی خوبصورتی اور موجودگی کا احساس ہوتا ہے، جہاں ہر چیز خدا کی عظمت کا بیان کرتی ہے۔
نظم کا مقصد انسان کو خدا کی محبت کا طلب گار بنانا، اور قدرت کی خوبصورتی میں الہامی جذبات پیدا کرنا ہے۔ شاعر نے نظم کے ذریعے انسان کو اپنی زندگی کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے، تاکہ وہ خدا کی محبت میں خوش رہے۔
یہ نظم تاریخی پس منظر میں اردو شاعری کی مثالی روایات کی عکاسی کرتی ہے۔ تلوک چند نے اس نظم کے ذریعے نہ صرف اللہ کی عظمت بلکہ اس وقت کی شاعری میں خدا پرستی کی اہمیت کو بھی زور دیا ہے۔
نظم 'ترانۂ حمدت' کو پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ قاری کو روحانی سکون اور اللہ کی محبت کی اہمیت کا شعور دیتی ہے۔ یہ نظم انسان کو قدرت کی خوبصورتی کے ذریعے اللہ کی قربت کا احساس دلاتی ہے۔
جی ہاں، یہ نظم بچوں کے لیے مناسب ہے کیونکہ یہ اللہ کی محبت اور قدرت کی خوبصورتی کے بارے میں مثبت پیغام دیتی ہے۔ بچوں کو یہ نظم پڑھنے سے اللہ کی قربت اور فطرت کی شناخت کا احساس ہوگا۔
نظم میں 'نیچے دیے گئے الفاظ' سے مراد مختلف تشبیہات اور استعارے ہیں جو شاعر نے اپنی تخلیق میں استعمال کیے ہیں تاکہ وہ خدا کی محبت اور قدرت کی خوبصورتی کو پیش کر سکیں۔

Chapters related to "ترانۂ حمدت"

ایک پردیسی کی واپسی

Start chapter

پہلی اذان

Start chapter

پانی

Start chapter

جگنو

Start chapter

بورڈنگ کی ایسی کی بات

Start chapter

برکت بھرے مہمان

Start chapter

قدم بڑھاؤ دوستو!

Start chapter

ڈاکٹر مریض اور دوا کشش

Start chapter

چچا چھکن کی تلاش

Start chapter

دو بیلوں کی کہانی

Start chapter

ترانۂ حمدت Summary, Important Questions & Solutions | All Subjects

Question Bank

Worksheet

Revision Guide