اے شریف انسان!
NCERT Class 8 Urdu Chapter 16: اے شریف انسان! (Pages 159–167)
Listen to this article
Summary of اے شریف انسان!
اے شریف انسان! at a Glance
CBSE
Class 8
Urdu
Khayal
16
159–167
6 study resources
اے شریف انسان! Summary
یہ باب دھیا ن چند کی شاندار زندگی اور بے مثال کھیل کی کہانی بیان کرتا ہے۔ دھیا ن چند کا جنم انیس سو چار میں ہوا اور وہ بھارت کے عظیم ہاکی کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے والد فوج میں سپاہی تھے اور اپنے بیٹے کی ہاکی میں دلچسپی کو سمجھ کر اسے کھیلنے کی ترغیب دی۔ دھیا ن چند نے ابتدائی طور پر کشتی میں دلچسپی دکھائی لیکن بعد میں ہاکی میں آ گئے۔ ان کی محنت اور لگن نے انہیں ایک بہترین کھلاڑی بنا دیا۔ انہوں نے چاندنی راتوں میں بھی ہاکی کی مشق کی۔ ایک بار تو انہوں نے خراب جوتوں کے باوجود ننگے پاوں کھیلتے ہوئے کئی گول کیے، جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ان کی مہارت کا ایک اہم موقع انیس سو اٹھائیس میں ایمنسٹرڈم اولمپکس تھا جہاں انہوں نے بھارتی ٹیم کو کئی اہم گولز بنوا کر کامیاب کرایا۔ دھیا ن چند کی کھیل میں بے پناہ صلاحیت کے باعث لوگوں کو شک ہوا کہ ان کی ہاکی اسٹک میں کسی قسم کا جادو ہے۔ اسی طرح ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں دنیا بھر میں مشہور کیا۔ ان کی زندگی کا ایک اور یادگار لمحہ انیس سو چھتیس کے برلن اولمپکس میں تھا۔ انہوں نے اپنی مہارت کے ذریعے بھارتی ٹیم کو چیمپئن بنایا۔ کھیل میں ان کی کامیابی کے علاوہ دھیا ن چند کی عاجزی بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ ان کی کامیابیاں ان کے وطن کے شہریوں کی محبت کی بدولت ہیں۔ ان کا یہ پیغام ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو کبھی بھی ذاتی شہرت کی بجائے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے محنت کرنی چاہیے۔ وہ ایک قابل احترام شخصیت بنے رہے، جو اپنا آخری میچ انیس سو اڑتالیس میں کھیلے۔ انہیں پدم بھوشن جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا اور ان کے نام پر کھیلوں کا ایک بڑا ایوارڈ بھی قائم کیا گیا، جو ہر سال ان کی سالگرہ کے موقع پر دیا جاتا ہے۔ ان کی یاد میں دہلی کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کا نام بھی ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ دھیا ن چند کی زندگی نہ صرف کھیل کے میدان کی داستان ہے، بلکہ یہ محنت، عزم اور عوامی خدمت کی مثال بھی پیش کرتی ہے۔
