سورج کی واپسی
NCERT Class 8 Urdu Chapter 2: سورج کی واپسی (Pages 10–21)
Listen to this article
Summary of سورج کی واپسی
سورج کی واپسی at a Glance
CBSE
Class 8
Urdu
Khayal
2
10–21
6 study resources
سورج کی واپسی Summary
اس باب کا آغاز ایک کسان کی کہانی سے ہوتا ہے جو روتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ وہ اپنے قرض کی ادائیگی کے باوجود مقروض مانا جا رہا ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اس نے اپنا قرض مکمل طور پر واپس کر دیا ہے، مگر نگر سیٹھ اس کی بات نہیں مان رہا اور اسے دھوکہ دے رہا ہے۔ دربار میں جا کر کسان اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے راہنمائی چاہتا ہے اور اس کے پاس صرف ایک رقعہ ہے جس پر اس نے سورج کی گواہی لکھی ہوئی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ سچ اور انصاف کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ پہلے منظر میں، کسان کہتا ہے کہ اس نے ہزار کوڑیاں ادھار لی تھیں اور انہیں لوٹا دیا ہے، لیکن نگر سیٹھ اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ جب دربار میں آکر معاملہ چلتا ہے، تو ل، یعنی قاضی، کسان سے پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی ثبوت ہے۔ کسان بتاتا ہے کہ اس نے نگر سیٹھ کو رقعہ لکھ کر دیا تھا، مگر جب یہ معاملہ تفصیل سے دیکھا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ نگر سیٹھ نے اس کی سچائی کو چھپانے کے لئے چالاکی کی ہے۔ ل کسان کی حالت کو سمجھتے ہیں اور وہ سورج کی گواہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ قاضی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ سورج کو کس طرح حاضر کیا جائے۔ آخرکار، وہ رقعے کا رخ سورج کی طرف کر دیتا ہے جس سے سورج کی روشنی کے ذریعے اس کی گواہی خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔ اس منظر میں مستقل مزاجی اور سچ کی قدرت کو دیکھایا گیا ہے کہ کیسے کبھی کبھی حقیقت صرف صحیح روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب نگر سیٹھ اپنے ناپاک ہتھکنڈے سے سچ نہیں چھپا پاتا، تو قاضی اسے سزا دیتا ہے اور کسان کو انصاف ملتا ہے۔ اس کہانی میں قاضی کی انصاف پسندی اور سورج کی گواہی کی طاقت دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ سچائی آخر کار باہر آ جاتی ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اس طرح، باب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہئے اور عاجزوں کا ساتھ دینا ہی اصل میں انسانیت کی پہچان ہے۔
