اشفاق احمد خان
NCERT Class 8 Urdu Chapter 4: اشفاق احمد خان (Pages 33–40)
Listen to this article
Summary of اشفاق احمد خان
اشفاق احمد خان at a Glance
CBSE
Class 8
Urdu
Khayal
4
33–40
6 study resources
اشفاق احمد خان Summary
اشفاق اللہ خان کی کہانی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک مثالی کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ بائیس اکتوبر انیس سو میں شہر شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شفیق اللہ خان ایک پولیس افسر تھے اور والدہ مظہرہ النسا ایک نیک شخصیت کی حامل تھیں۔ اشفاق اللہ خان اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور وہ بچپن سے ہی ذہین اور پرجوش تھے۔ ان کی والدہ نے انہیں انگریزوں کے ظلم کے داستانیں سنا کر ان کے دل میں وطن کی محبت بیدار کی۔ یہی وجہ ہے کہ اشفاق اللہ خان نے بھرپور آزادی کی جدوجہد میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی تحریک کے دوران رام پرساد بسمل کے ساتھ مل کر 'ہندوستان ری پبلیکن ایسوسی ایشن' کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم انقلابی خیالات کی حامل تھی اور وہ دونوں قومی اتحاد اور اصلاحات کے حامی تھے۔ ان کی زندگی کا ایک روشن لمحہ اس وقت آیا جب انہوں نے انقلابیوں کے ساتھ مل کر ایک سرکاری خزانے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کی خاطر اشفاق اللہ خان نے اپنی جرات کا مظاہرہ کیا اور اس آپریشن میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی حکومت نے ان پر سختی سے کارروائی کی، کئی انقلابیوں کو گرفتار کیا گیا، لیکن اشفاق اللہ خان کسی طرح بچ نکلے۔ بعد میں انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ انہوں نے انگریزوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے، بلکہ جج کے سامنے اپنی موت کی پیشکش کی۔ اشفاق اللہ خان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، مگر ان کی بہادری نے انہیں شہید کا درجہ دلایا۔ انہوں نے جیل میں بھی اپنے وطن کی محبت کا اظہار کیا۔ ان کی قربانی آج بھی ہندوستانی تاریخ میں زندہ ہے اور ان کا مجسمہ شاہ جہاں پور میں ان کی عظیم قربانی کی علامت ہے۔ اشفاق اللہ خان کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ وطن کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے۔ یہ باب ہمیں ان کی ہمت، عزم اور مستقل مزاجی کی یاد دلاتا ہے اور یہ سبق دیتا ہے کہ آزا دی کی جدوجہد میں کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے۔
