حاضر جواب
NCERT Class 8 Urdu Chapter 12: حاضر جواب (Pages 117–128)
Summary of حاضر جواب
Playing 00:00 / 00:00
حاضر جواب at a Glance
CBSE
Class 8
Urdu
Khayal
12
117–128
6 study resources
حاضر جواب Summary
کہانی کا آغاز أبو نامی ایک شخص سے ہوتا ہے جو اپنی زندگی کی نئی شروعات کے لئے راجدھانی کے بادشاہ کے دربار میں پہنچتا ہے۔ وہ بادشاہ سے ملازمت کی درخواست کرتا ہے اور اپنی ایمانداری کا وعدہ کرتا ہے۔ بادشاہ اس کی باتوں سے متاثر ہو کر اسے محل کا پہرہ دینے کا کام سونپ دیتا ہے۔ أبو اپنی حاضر جوابی اور خوش مزاجی کی بنا پر جلد ہی دربار میں مقبول ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ایک دن بادشاہ أبو کو بتاتا ہے کہ وہ کچھ ضروری کام سے جا رہا ہے اور اسے تاکید کرتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں کسی کو بھی محل میں داخل نہ ہونے دے۔ أبو اس کی بات کا احترام کرتے ہوئے پوری توجہ سے پہرہ دیتا ہے۔ لیکن ایک رات جب محفل سجی ہوتی ہے، أبو کے دل میں ناچنے اور گانے کی تمنا ابھر آتی ہے۔ لگن سے اپنے فرائض انجام دینے کے لیے، أبو چالاکی سے دروازے کی تمام کیلیں اور قفل نکال دیتا ہے اور لوگوں میں ناچنے گانے لگتا ہے۔ صبح ہوتے ہی واپس آکر أبو دروازہ دوبارہ لگاتا ہے۔ لیکن جب بادشاہ واپس آتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ محل میں چوری ہو چکی ہے۔ بادشاہ أبو سے غصے میں سوال کرتا ہے کہ کیا وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران محل کا پہرہ دیتا رہا تھا۔ أبو یہ کہتا ہے کہ اس نے صرف دروازے پر پہرہ دیا تھا جیسا کہ بادشاہ نے کہا تھا۔ یہ سن کر بادشاہ أبو کو سزا دینے کے لیے اسے ایک گڑھے میں ڈھکیلہ دیتا ہے جہاں أبو کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ وقت گزرتا ہے اور أبو اپنی نامساعد حالت پر غور کرتا ہے۔ اچانک ایک تاجر آن پہنچتا ہے جو اپنے سامان کے ساتھ ہے۔ أبو ایک ترکیب سوچتا ہے اور تاجر سے کہتا ہے کہ وہ بھی ایک کامیاب تاجر ہے لیکن اسے بھی اسی علاج کے لئے یہاں رکھا گیا ہے۔ تاجر أبو کی بات پر اثر انداز ہو کر راضی ہو جاتا ہے کہ وہ أبو کو اونٹوں اور مال و اسباب دے گا اگر وہ گڑھے سے باہر آنے دے تو۔ أبو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر کو گڑھے میں دبا دیتا ہے اور خود اونٹ لے کر نکل جاتا ہے۔ بادشاہ کے سپاہی جب وہاں پہنچتے ہیں تو وہ أبو کو نہیں ڈھونڈ پاتے۔ بلکہ تاجر کو لے جا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ تاجر اپنی داستان سنا کر بادشاہ کو قائل کرتا ہے اور بادشاہ أبو کی ذہانت کی تعریف کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ أبو نے کیسے چالاکی سے اپنی جان بچائی۔ بادشاہ أبو کو معاف کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن ایک عجیب شرط پر۔ اس شرط میں کہا جاتا ہے کہ أبو نہ تو کپڑے پہنے، نہ ننگا، نہ سواری پر بیٹھا اور نہ ہی پیدل دکھائی دے۔ أبو نے اس شرط کو قبول کیا اور کہا کہ وہ دربار میں حاضر ہوگا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح عقل اور حاضر جوابی سے مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ أبو کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ چالاکی اور ذہانت انسان کو مشکل ترین حالات سے نکال سکتی ہے۔ اس کے دونوں پہلو، یعنی ایمانداری اور چالاکی، زندگی میں عمل کے لئے بہت اہم ہیں۔
